Pay in installments of $50.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 27 - Aug 1
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
عظیم ہمالیہ کے حضور | Azeem Humaliya Kay Hazor. : 4 12 2020
قمر خان
بھینس کی طرح کھلے میدانوں میں چرنے کے بعدتالاب میں نہانا بلکہ کیچڑ میں لت پت ہونا ، مالیوں کے باغ سے سیب اور گالیاں کھانا، دھوپ میں لیٹ کر جگالی کرنا اور سر شام ماں کے کوسنے اور ’’ڈوٹے ‘‘ کھا کر سو جانا۔ایسے شب و روز میں سفر کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ضرورتاً پنڈی جانا پڑتا تو منگ کے مقام پرقبضہ مخالفانہ چھڑانے کے لیے مارکھانا پڑتی اور دوچار میل کھڑے رہ کر سفر بھی کرنا پڑتا۔عقل آنے پر عالم یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہرمنگ پہنچنے پربا ادب کھڑے ہو جاتے۔’’آئیے جناب یہ سیٹ ہم پنڈی سے آپ کے لیے ریزرو کروا کہ لائے ہیں۔آئیے تشریف رکھیے ‘‘۔ پہلی بار کراچی جانا ہوا تو آغاز سفر میں ہی لڑائی ہو گئی۔نتیجۃً وزیر آباد کے مقام پر ریلوے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ دے دلا کر جان چھوٹی اور تیسرے دن کراچی پہنچے۔اسی لیے سفر سے چڑ ہے۔ لہٰذا جب بھی سفر کیا بامر مجبور ی کیا۔ شوقیہ سفر کے ماروں سے ہماری کبھی نہیں بن پائی۔ ہمیں تو بھینس نما لوگ چاہئیں جو بیٹھ جائیں تو اٹھنے کا نام نہ لیں۔مگر ہمارے بیٹھنے پر بھی بزرگوں کو اعتراض رہتا تھا۔ کبھی آملوک یا اخروٹ کے اونچے ، سوکھے ٹہنے پر بیٹھ گئے ،کبھی ’’ادھ کندی‘‘پر یا مکان کی چھت پر۔ بزرگ کہتے ’’کیوںکِلیوں پر انڈے دے رہے ہو‘‘؟ تب سے ہم نے ’’کِلیوں ‘‘کی بجائے سکول میں انڈے دینا شروع کر دیے۔ مگربرادرم جاوید خان کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ کوئی پڑھا لکھا آدمی ہے۔آج کا مضمون لکھنے کی نوبت نہ آتی تو یہ بھرم تادیر قائم رہتامگر حقیقت کب تک چھپ سکتی ہے۔سفر ہمیں کسی صورت راس نہیں آتا۔ نیند اور تھکاوٹ سے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ کھانے کو ڈھنگ کا ملتا ہے نہ پینے کو۔ بڑی ائر لائنوں میں بھی پینے کے لیے چلّو بھر پانی ملتا ہے۔اور کچھ ہو نہ ہو قبض تو لازم ہو جاتی ہے۔ایک دن رات کا سفر ایک ہفتہ خراب کر دیتا ہے۔ سوسفر کے تذکرے سے جس نامراد کی طبیعت خراب ہونے لگے اگر اسے سفرنامہ پڑھنا پڑے تو خود اندازہ کیجیے کہ اس پر کیا گزرے گی۔اور سفر نامہ بھی یورپ، امریکہ کے رنگین گلی کوچوں کی بجائے …ہمالیہ کے سنگلاخ پہاڑوں کا ہو تو سمجھ لیجیے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی خیر نہیں۔قاری نہیں یا سفر نامہ نہیں۔یہ سفر بھی کوئی آسان سفر نہ تھا۔خصوصاًایسے دنوں میںجب کسی کو کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر اُبکائیاں آتی ہوں، جی متلاتا ہو اور نیند بھی ٹھیک سے نہ آتی ہو، سفر سے پرہیز کرنی چاہیے۔چہ جائیکہ اس قدر پر خطر راستوں پر نکل جائیں۔چلو جو ہوا سو ہوا، مٹی پاؤ۔ مٹی پالیتے اگر بات سفر تک ہی رہتی۔ مگراتنے مشکل سفر کا روزنامہ بھی لکھ دیا۔ یقیناعام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ مصنف موصوف نے کتاب پر اس قدر محنت کی ہے کہ اس کی نوک پلک سنوارنے میں ان کی کئی ہفتے لگے ہو ں گے۔ بہرحال جتنی محنت کرنی تھی کر لی اب تو محنت کا میدان بدل گیا ہے۔
کتاب پڑھنے سے پہلے یہ خیا ل مسلسل تنگ کرتا رہا کہ مصنف سفرنامے کی بجائے کچھ اور بھی تو لکھ سکتے تھے۔ مگر جب سفر نامہ پڑھنا شروع کیا تو رائے بدلنا پڑی۔ عظیم ہمالیہ کے حضور‘ مصنف کی پہلی تصنیف ہے۔اور خوبصورت تصنیف ہے۔لفظوں کا چناؤ اور منظر نگاری اپنی مثال آپ ہے۔خطے سے ان کی محبت ان کی تحریر سے ٹپک رہی ہے۔ انہوں نے پورے سفر کو اس . خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے کہ مجھ جیسے ’بیٹھوک‘ انسان کے دل میں پہلی بار سفر کا شوق پیدا ہواہے ۔ بلکہ اب رہ رہ کر یہ خیال ستا تاہے کہ آج تک ان خوبصورت چوٹیوں، گھاٹیوں ادر وادیوں کا سفر کیوں نہیں کیا۔کہتے ہیں جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ سفر نامہ پڑھنے کے بعد ہمارا کہنا ہے کہ جس نے ہمالیہ نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ ہمالیہ پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ بس ایک ہماری ہی نظر وں سے اوجھل ہے۔مصنف نے یہ سفر نامہ لکھ کر گویا ہمارے لیے ہمالیہ کو نئے سرے سے دریافت کیا ہے۔ اس سفر میں انہوں نے جو دیکھا اسے قارئین کو دکھانے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ سورج بابو سر چوک سے رخصت ہو چکا تھا۔مگر پار ہمالیہ اور ہندوکش کی چوٹیوں پر ابھی سنہری کرنیں باقی تھیں۔برف کا گھر حد نظر تک پھیلا ہوا تھا۔اس کی وسعت نظروں میں سمٹنے سے انکاری تھی۔سورج دیوتا کی کرنوں نے سفید و سرد گھر کے درو دیوار پر سرخ چادر ڈال دی تھی۔ساری برفیلی چوٹیوں کے لب ورخسار پر لالی پھیل گئی تھی۔جیسے ہزاروں دلہنیں سرخ دوپٹوں میں بناؤ سنگھار کیے بیٹھی ، شرمیلی مسکراہٹ لیے دیکھ رہی ہوں۔ہر چوٹی شام کی دلہن تھی ۔ ہر ایک کا حسن دوسری سے الگ تھا‘‘۔
’’ہندو کش اور قراقرم ادب سے دم سادھے عظیم ہمالیہ کے دربار میں کھڑے تھے اور اس وقت کی داستان سن رہے تھے۔پیر پنجال ایک معصوم بچہ لگ رہا تھا۔حاجی پیر کے چہرے سے بزرگی جھلک رہی تھی۔ہمالیہ نے کہا اس سطح زمین پر دیگر حیات کے ساتھ بالآخر حضرت آدم ؑ کا ظہور بھی ہوا۔میں نے اپنے قدموں میں بکھرے ان درّوں میں اولاد آدم ؑ کو سرکشی کرتے ،لڑتے مرتے اور پھر ابھرتے دیکھا ہے‘‘۔
’’اچانک نانگا پربت کے عین اوپر نیلے آسمان تلے شب کا پہلا ستارہ نمودار ہوااور اپنی روشنی کی نوکدار کرنیںنانگا پربت پر اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔ستارے کی بلندی اپنی جگہ مگر نانگا پربت کے نوکیلے وجود کی قامت اور چمک کے سامنے تارے کی ایک نہ چلی تو آہستہ آہستہ ڈھیروں ستارے اس کی مدد کو نکل آئے…تاروں کی جھلملاہٹ بڑھ رہی تھی۔جھرمٹ کے جھرمٹ کہیں سے نکل کر آسمان پر پھیل رہے تھے۔ضرور یہ ستارے اپنی محفل آباد کرنے کو تھے۔ستاروں کی انجمن تلے نانگا پربت کا منجمد وجود بھی سفید نوکدار جھلملاتا ستارہ بن گیا تھا‘‘۔
مصنف نے چھوٹے چھوٹے اور گمنام علاقوں کا تفصیلاً تعارف بھی کروایا ہے۔ ایسی معلومات بھی شامل کی ہیں جن کے لیے الگ سے ایک کتابچہ لکھا جا سکتا تھا جو سیاحوں کے کام آتا۔مصنف نے قدرتی ماحول کی تباہی کا ذکر بھی جابجا کیا ہے۔اس اعتبار سے ان کی یہ تصنیف سفر نامے سے بڑھ کر ہے۔
ہم پہاڑیے لوگ فطرت کے پڑوسی ہیں۔ فطرت سے جو قربت ہمیں حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔ مگر محسوس اسے جاوید نے کیا ہے۔ برف پوش چوٹیوںپر پڑنے والی کرنیں سورج کی ہوں یا چاند کی ،جاوید نے انہیں دیکھا اور محسوس ہی نہیں کیا ، اپنے اندرجذب بھی کیاہے۔ہمالیہ سے اس کی محبت جسم میں خون کی مانند دوڑ پھر رہی ہے۔لگتا ہے وہ اسی محبت میں گرفتار وہاں تک پہنچا ہے اور اسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنی روئیدادسنائی ہے۔گو وطن کی محبت میں ہم بھی چاک گریباں ہیں مگر سچ پوچھیے توہمالیہ کو کبھی اس نظر سے نہ دیکھ پائے تھے جس نظر سے جاوید نے دکھایا ہے۔ وہ ہمالیہ کے درو دیوار پر دیوانہ وارپھرا ہے۔ دن رات پھرا ہے۔ اس نے راتوں کو اٹھ اٹھ کر سفید ہمالیہ کو چاندنی کا آنچل اوڑھے بھی دیکھا ہے ۔ صبح کاذب کے دھندلکے میںچھپا دیکھا ہے اور اندھیری رات میں اس کے پاؤں کو چھوا ہے۔ اس سے سرگوشیاں بھی کی ہیں، اپنے دل کا حال سنایا ہے، رویا بھی ہے ۔اس نے بوقت سحر ہمالیہ کی چوٹیوں پہ کھڑے ہو کر ہاتھ بھی پھیلائے ہیں اور خدا سے ہمالیہ کی عظمت ، اپنی مٹی کے وقار اور اور اپنی شناخت کی بھیک مانگی ہے۔ وہ ایک ایسا مسافرہے جس کا گریباں چاک ، دامن تار تار اور دل فگار ہے۔ وہ اپنی اس کیفیت کو بیان نہیں کر پایا۔ بیان کر بھی نہیں سکتا تھا۔ اور جو کچھ وہ بیان نہیں کر پایا دراصل وہی اس کا پیغام ہے۔اس پیغام پر میں بلامبالغہ مصنف کو کھڑے ہو کر سلام پیش کرتا ہوں۔ جاوید ایک عرصے سے لکھ رہا ہے اور جس شوق اور محنت سے لکھ رہا ہے یقینا وہ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر کہ رہے گا۔
آزاد کشمیر میں اردو نثر لکھنے والے چند ایک ہی لوگ ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک امر ہے۔مگر خوشی اس بات کی ہے کہ جو چند ایک ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ایسے ماحول میں نئے لوگوں کا نثرکی طرف متوجہ ہونا خوشی کی بات ہے۔جاوید کا سفر نامہ اس سمت میں اچھی پیش رفت ہے۔تکنیکی اعتبار سے میں کتاب پر کوئی رائے دینے سے اس لیے قاصر ہوں کہ میں تو بچوں کی کاپی بھی چیک نہیں کر سکتا۔ اتنا ضرور ہے کہ اپنی محرومیوں نے دل آنکھ ضرور کھول دی ہے۔ اور یہ آنکھ ایک ہی نظر میں ایسی کھلی آنکھیں دیکھ لیتی ہے۔ جاوید محبت کے راستوں کاکھلی آنکھ والا مسافر ہے۔کھلی آنکھ کے ساتھ زندگی کا سفر کوئی آسان سفر نہیں۔
4/12/2020
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.8 ★★★★★
Based on 7 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
great
great fit and worked flawless
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on September 4, 2024
★★★★★ 5
Perfect fit
As advertised perfect match and cheap.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 6, 2024
★★★★★ 5
Good
Works great!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on November 5, 2024
★★★★★ 1
Cheap
Cheaply made
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 30, 2025
★★★★★ 5
Works for my 2011 115hp Etec
Size: For 75-250 HP
Exact fit and cheaper than a trip to a repair shop. Make sure you have the proper gasket sealer, a good scrapper that's not going to dig into the sealing surface, and tools for the job.
I went on my computer and downloaded a video that walked me through the process. I'm a mechanic by trade but wanted to ensure everything was correct. I've been running the motor now for a couple of months. Peeing just as it's supposed to.
No more delivering, waiting, and retrieving my boat from the shop for its routine service.
Just follow your owner's manual to make sure you do all the necessary maintenance.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 8, 2025
recommand products
Custom Black Silver 3D Pattern Design Gradient Square Shapes Authentic Baseball Jersey
29.99
SAPTRISHI Gold Dhaniya Powder | Coriander Powder
24.00
SAPTRISHI Rajgira Atta, Gluten-Free
75.00
Custom Royal Yellow 3D Pattern Design Gradient Square Shapes Authentic Baseball Jersey
29.99
Custom Yellow Purple-Black Authentic Baseball Jersey
27.99